برمودا ٹرائی اینگل میں ایک اور امریکی بحری جہاز غائب ہو گیا


نیویارک(بی بی سی کشمیر نیوز) برمودا ٹرئی اینگل سے متعلق کئی داستانیں کتابوں اور تاریخ کا حصہ ہیں اور اس کا نام خوف اور موت کی علامت سمجھا جاتا ہے جہاں کئی بحری جہاز اور طیارے اپنے مسافروں سمیت سمندر کی گہری اور تاریک تہہ میں غائب ہوگئے اور اب ایک نئے واقعہ میں امریکی بحری جہاز اپنے عملے کے 33 افراد کے ساتھ اچانک سمندر کی سطح سے غائب ہوگیا اور تاحال اس کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔برمودا ٹرائی اینگل ایک پراسرار اور خوفناک سمندری مقام ہے جہاں کئی طیارے اور بحری جہاز سیکڑوں انسانوں کےساتھ سمندر میں غرق ہوچکے ہیں اور آج تک اس جدید دور میں کوئی سائنس دان اس کی حقیقت کی نہیں جان سکا کہ کونسی ایسی قوت ہے جو ان جہازوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔



دوبارہ زندہ ہوجانے کی خواہش میں خود کومنجمد کرانے والے افراد


نیویارک: دنیا بھر میں اب تک ہزاروں افراد مرنے کے بعد خود کو اس امید پر منجمد کراچکے ہیں کہ جب مستقبل میں ٹیکنالوجی میں مزید جدت آجائے گی تو انہیں موت کے منہ سے نکال لیا جائے گا اور وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔



زمین سے مماثلت رکھنے والے 7 سیارے دریافت

ماہرینِ فلکیات نے زمین جیسے حجم والے سات سیارے دریافت کیے ہیں جو ایک ستارے کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان ساتوں سیاروں پر مائع پانی ہونے کے امکانات ہیں تاہم اس کا دارومدار ان سیاروں کی دیگر خاصیات پر ہے۔ ماہرین کے مطابق ان سات سیاروں میں سے تین تو خلا میں اس علاقے میں گردش کر رہے ہیں جہاں زندگی پائے جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ستارے ٹریپسٹ ون زمین سے 40 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ سائنسی جریدے نیچر کے مطابق ان سیاروں کو ناسا کی سپٹزر سپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر آبزرویٹریز نے دریافت کیا ہے۔ جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کے مصنف بیلجیئم یونیورسٹی کے مائیکل گلن کا کہنا ہے 'یہ ساتوں سیارے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور ستارے کے بھی بہت قریب ہیں جو کہ مشتری کے چاندوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

سورج سے دو کروڑ گنا زیادہ کمیت کا حامل بلیک ہول آنکھیں کھول رہا ہے


ماہرین فلکیات پہلی مرتبہ ایک ایسے بلیک ہول کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کی سرگرمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی ادارے جوڈریل بینک سینٹر کے سائنس دان میگن ایرگو کی قیادت میں اس سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بلیک ہول ستاروں کی ایک قسم ہے، جن کی کمیت ایک مرکزی نقطے پر اس قدر مرکوز ہو جاتی ہے کہ وہ ستاروں کی طرح روشنی پیدا کرنے کی بجائے اسے جذب کر لیتے ہیں اور جو بھی چیز ان کی تجاذبی کشش کی حد میں آتی ہے، اسے پی جاتے ہیں۔ زمان و مکان، یعنی ٹائم اینڈ سپیس بھی بلیک ہول میں گر کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بلیک ہول کو آج تک براہ راست دیکھا نہیں جا سکا۔

اسلام میں مصافحہ اور معانقے کا حکم جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں

از اوریا مقبول جان

چہروں پر کرب، ماتھے سلوٹوں سے بھرے ہوئے، مضطرب، پریشان، کوئی ناخنوں کو دانتوں سے کاٹ رہا ہے تو کوئی مسلسل اپنی ٹانگیں ہلائے چلے جا رہا ہے، اچھا خاصا ذہین اور بذلہ سنج آدمی لیکن بھری محفل میں بیٹھے ہوئے خود سے باتیں کرنے لگ جاتا ہے، کسی جگہ آرام سے چل رہا ہو گا تو اچانک دوڑ پڑے گا۔ آپ کو یہ سب اس اضطراب کے دور میں عام نظر آ رہا ہو گا۔ یہ تو وہ علامتیں ہیں جو آپ دیکھ پاتے ہیں۔
یہ ان انسانوں کو پریشانیوں سے پیدا ہونے والی کیفیت کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔ لیکن اگر آپ کو ان کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کا اتفاق ہو جائے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ لوگ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں کس قدر خوفناک زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی نیند ٹوٹی پھوٹی اور بہت کم ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات تو ہزار کوشش سے انھیں نیند آتی ہی نہیں، بلاوجہ غصہ اور چڑچڑاہٹ، ایسے شخص سے لڑ پڑتے ہیں جس کا کوئی قصور تک نہ ہو یا ایسی بات پر غصہ کر جاتے ہیں جسے ہنس کر ٹال دینا چاہیے تھا۔ کوئی پریشانی کے عالم میں معدے کی تیزابیت کا شکار ہو جاتا ہے تو کسی کو اپھارے کی ایسی شکایت ہوتی ہے کہ سانس حلق میں اٹک جاتا ہے۔
 
 

 شہد کی مکھیوں سے جڑے حیرت انگیز حقائق
سعید احمد

  اللہ تعالیٰ نے شہد میں ایسی بے بہا خصوصیات رکھی ہیں کہ جن کو دیکھ کر نہ صرف انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے بلکہ سائنس آج اتنی ترقی اور متعدد تجربات کے باوجود شہد تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

شہد اور مکھیوں کی خاصیت

شہد کو نہ صرف کھانے کے بعد میٹھے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب کہ مختلف ممالک میں اسے مختلف قسم کی بیماریوں کے توڑ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شہد کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اگر شہد کی مکھی پورے قدرتی عمل سے شہد تیار کر لے تو پھر وہ 1000 سال بھی پڑا رہے تو نہ تو وہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے ذائقے میں ذرا برابر بھی فرق آتا ہے جب کہ اس قسم کے شہد میں رکھی گئی کوئی چیز بھی خراب نہیں ہوتی۔