اسلام میں مصافحہ اور معانقے کا حکم جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں

از اوریا مقبول جان

چہروں پر کرب، ماتھے سلوٹوں سے بھرے ہوئے، مضطرب، پریشان، کوئی ناخنوں کو دانتوں سے کاٹ رہا ہے تو کوئی مسلسل اپنی ٹانگیں ہلائے چلے جا رہا ہے، اچھا خاصا ذہین اور بذلہ سنج آدمی لیکن بھری محفل میں بیٹھے ہوئے خود سے باتیں کرنے لگ جاتا ہے، کسی جگہ آرام سے چل رہا ہو گا تو اچانک دوڑ پڑے گا۔ آپ کو یہ سب اس اضطراب کے دور میں عام نظر آ رہا ہو گا۔ یہ تو وہ علامتیں ہیں جو آپ دیکھ پاتے ہیں۔
یہ ان انسانوں کو پریشانیوں سے پیدا ہونے والی کیفیت کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔ لیکن اگر آپ کو ان کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کا اتفاق ہو جائے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ لوگ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں کس قدر خوفناک زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی نیند ٹوٹی پھوٹی اور بہت کم ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات تو ہزار کوشش سے انھیں نیند آتی ہی نہیں، بلاوجہ غصہ اور چڑچڑاہٹ، ایسے شخص سے لڑ پڑتے ہیں جس کا کوئی قصور تک نہ ہو یا ایسی بات پر غصہ کر جاتے ہیں جسے ہنس کر ٹال دینا چاہیے تھا۔ کوئی پریشانی کے عالم میں معدے کی تیزابیت کا شکار ہو جاتا ہے تو کسی کو اپھارے کی ایسی شکایت ہوتی ہے کہ سانس حلق میں اٹک جاتا ہے۔
 
 

 شہد کی مکھیوں سے جڑے حیرت انگیز حقائق
سعید احمد

  اللہ تعالیٰ نے شہد میں ایسی بے بہا خصوصیات رکھی ہیں کہ جن کو دیکھ کر نہ صرف انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے بلکہ سائنس آج اتنی ترقی اور متعدد تجربات کے باوجود شہد تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

شہد اور مکھیوں کی خاصیت

شہد کو نہ صرف کھانے کے بعد میٹھے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب کہ مختلف ممالک میں اسے مختلف قسم کی بیماریوں کے توڑ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شہد کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اگر شہد کی مکھی پورے قدرتی عمل سے شہد تیار کر لے تو پھر وہ 1000 سال بھی پڑا رہے تو نہ تو وہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے ذائقے میں ذرا برابر بھی فرق آتا ہے جب کہ اس قسم کے شہد میں رکھی گئی کوئی چیز بھی خراب نہیں ہوتی۔

مُلحدوں اور عیسائیوں کے قرآن پر اعتراضات کا تجزیہ از پروفیسر گیر ی ملر ، ماہر علم ریاضی ٹورنٹو یونیورسٹی

قرآن کی صحت و صداقت جانچنے کے اور بھی طریقے پائے جاتے ہیں۔ان میں ایک مسلمہ طریقہ’’ استنفادِ بدیل ‘‘ (Exhausting the Alternatives)کا ہے۔بنیادی طور پر ہم قرآن کا یہ دعویٰ دیکھتے ہیں کہ وہ وحیِ الٰہی ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ہے؟دوسرے الفاظ میں قرآن اپنے قاری کو چیلنج کرتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی توجیہ پیش کرے، ورق اور سیاہی سے تیار شدہ یہ کتاب کہاں سے آئی ہے؟اگر یہ اللہ کی وحی نہیں ہے تو اس کا مصدر کیا ہے؟حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج تک کوئی اس مظہر کی اطمینان بخش متبادل توجیہ پیش نہیں کرسکا ہے۔


غیر مسلموں کی طرف سے قرآن کے منزل من اللہ نہ ہونے کے سلسلے میں جو توجیہات عرض کی گئی ہیں ان کو دو بڑے عنوانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مخالفین کی تمام ہرزہ سرائیاں ان دائروں سے باہر کم ہی نکلتی ہیں۔ مخالفین کا ایک گروہ جو متعدد اصحابِ علم، سائنس دانوں اور تعقّل زدہ لوگوں پر مشتمل ہے، کہتا ہے کہ بڑے طویل عرصہ تک قرآن اور محمد ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کر کے ہم اس نتیجے پر پہونچے ہیں کہ درحقیقت محمدﷺ ایک عبقری (Genius)انسان تھے،جن کو اپنے بارے میں (نعوذ باللہ) یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ ایک نبی ہیں۔اس کی وجہ ان کی عقل میں فتور اور نامساعد حالات میں ان کی پرورش و پرداخت ہے۔ ایک جملہ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ حقیقتاً ایک فریب خوردہ(Fooled) انسان تھے۔ اس گروپ کے بالمقابل مخالفین کا دوسرا گروہ ہے جس کا کہنا ہے کہ دراصل محمد ایک جھوٹے انسان تھے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ آپس میں بھی کبھی قرآن کے متعلق اتفاقِ رائے نہیں کر سکے ہیں۔اسلام اور اسلامی تاریخ پر لکھے گئے بہت سارے مغربی مصادر و مراجع میں ان دونوں مفروضات کا تذکرہ ملتا ہے۔ وہ پہلے پیراگراف میں محمدﷺ کو ایک فریب خوردہ،مختل الحواس انسان کی شکل میں پیش کریں گے اور معاً اگلے اقتباس میں انھیں جھوٹا، کذاب کے القاب سے نوازتے دکھائی دیں گے۔حالانکہ اندھی مخالفت کے زور میں یہ حضرات علمِ نفسیات کی ابجدی حقیقت کو بھی دانستہ یا نادانستہ فراموش کر جاتے ہیں کہ کوئی انسان بیک وقت محبوس العقل اور جھوٹا شاطر(Imposter) نہیں ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مخبوط العقل ہے اور اپنے آپ کو نبی سمجھ بیٹھا ہے تو اس کا معمول یہ نہیں ہوگا کہ وہ رات کے آخری پہر میں جاگ کر اگلے دن کے لیے لائحہ عمل تیار کرے تاکہ اس کی نبوت کا ڈھونگ جاری رہ سکے۔ اگر وہ مختل العقل ہے تو وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اپنی دانست میں سچا نبی ہوگا اور اسے کامل یقین ہوگا کہ آئندہ کل جو بھی ناگہانی سچویشن رونما ہوگی، وحیِ الٰہی ہر موقعہ پر اس کی دادرسی کر دے گی۔ اور واقعہ ہے بھی کہ قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ کفار و مشرکین کے سوالات و اعتراضات کے جواب میں نازل ہوا ہے۔مختلف خلفیوں (
Back Grounds) کے حامل مخالفین الگ الگ سطحوں پر آپﷺ سے سوالات دریافت کرتے تھے اور اللہ کی جانب سے وحی کے ذریعے آپﷺ کو اس سے باخبر کیا جاتا تھا۔ لہٰذا اگر آنحضورﷺ کو دماغی خلل(Mind Delusion) کا شکار باور کر بھی لیا جائے تو فطری طور پر ان کا رویہ جھوٹے شخص کا سا نہیں ہو سکتا۔غیر مسلم مخالفین علمی سطح پر کبھی اس بات کا اقرار نہیں کر سکتے کہ یہ دونوں از قبیلِ اضداد صفتیں کسی ایک آدمی میں یکجا ہو سکتی ہیں۔کوئی بھی انسان یا تو فریب خوردہ ہوگا یا جھوٹا، بیک وقت دونوں ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جس چیز پر میں زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ کہ متعلقہ دونوں صفات دو متضاد شخصیتوں کا مظہر ہیں اور ایک شخص میں ان کا پایا جانا صرف خوابوں کی دنیا میں ممکن ہے۔
آنے والے منظر نامے کے ذریعہ آپ جان لیں گے کہ کس طرح غیرمسلم مخالفین،کولہو کے بیل کی مانند ایک دائرے میں گھومتے گھومتے خود اپنے کھودے ہوئے اعتراضات کے گڑھوں میں آ گرتے ہیں۔اگر آپ ان میں سے کسی سے پوچھیں کہ تمھارے فہم کے مطابق یہ قرآن کہاں سے آیا ہے؟وہ جواب دے گا کہ یہ ایک مخبوط العقل انسان کی خیال آفرینی کا کرشمہ ہے۔ اب آپ اس سے پوچھیں : ’’اگر یہ کسی پاگل ذہن کی پیداوار ہے تو اس میں یہ علمی باتیں کہاں سے آ گئیں ؟اس کو تو تم بھی مانو گے کہ قرآن میں ایسی معلومات کا تذکرہ ہے جو اس وقت عربوں کو نہیں معلوم تھیں ‘‘، اب وہ لاشعوری طور پر اپنے جواب میں تبدیلی کرتے ہوئے کہے گا:’’ہو سکتا ہے کہ محمدﷺ مخبوط العقل نہ ہوں، اور انھوں نے یہ معلومات بعض غیر ملکی اجنبیوں سے سن کر ان کو اپنی طرف منسوب کر دیا ہو، اور اس بہانے جھوٹ موٹ نبوت کا دعوی بھی کر دیا ہو‘‘۔اس نقطہ پر آ کر آپ اس سے پوچھیں :’’اگر تمھارے مطابق محمد ﷺ جھوٹے نبی تھے تو کیا وجہ ہے کہ انھیں اپنے آپ پر اس درجہ اعتماد کیوں تھا؟کیوں ان کے تمام تصرفات سے فی البدیہہ جھلکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچا نبی متصور کرتے تھے؟‘‘اس نقطہ پر پہونچ کروہ تنگ نائے میں پھنسی بلی کی طرح اپنے سابقہ موقف کی طرف پلٹی مارتے ہوئے کہے گا :’’ممکن ہے کہ وہ فی الواقع جھوٹا نہ ہو، بلکہ مخبوط العقل ہو جو کہ خود کی نبوت میں یقین کرتا تھا‘‘ یہاں آ کر بحث و تمحیص کا دائرہ گھوم کر پھر وہیں آ رکتا ہے جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی تھی۔
جیسا کہ میں پیچھے ذکر کر چکا ہوں کہ قرآنِ کریم میں ایسے بہت سارے علمی حقائق مذکور ہیں کہ جن کو اللہ عالم الغیب کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ہے۔علی سبیل المثال: کون تھا جس نے محمدﷺ کو سدِ ذی القرنین کے متعلق بتایا جبکہ وہ جزیرۃ العرب کی حدود سے باہر شمال میں ہزاروں کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، ؟کون تھا جس نے علمِ جنین کے بارے میں بالکل درست معلومات سے محمدﷺ کو آگاہ کیا تھا؟ان حقائق کی کثرت کو دیکھتے ہوئے بھی جو لوگ ان کو ذاتِ الٰہی کا فیضان نہیں ماننا چاہتے، آٹومیٹیکلی ان کے پاس صرف ایک آپشن باقی رہ جاتا ہے۔ یعنی کسی گمنام اور مجہول شخص نے یہ بیش بہا معلومات کا خزانہ، محمدﷺ کی جھولی میں ڈال دیا تھا، جس کا خاطر خواہ استحصال کرتے ہوئے محمد ﷺ نے نبوت کا دعوی کر دیا۔ لیکن اس غلط مفروضہ کو بڑی آسانی کے ساتھ محض ایک مختصر سے سوال کے ذریعہ رد کیا جا سکتا ہے:اگر بموجب اس مفروضہ کے محمدﷺ ایک جھوٹے نبی تھے، تو آخر انھیں اپنے جھوٹ پر اتنا بھروسا کیوں تھا؟کیوں کر انھوں نے ایک بت پرستانہ ماحول میں رائج مذہبی عقائد ورسوم پراس درجہ بیباکی و شجاعت کے ساتھ تیز و تند تنقیدیں کیں، جس کا تصور بھی کسی نفاق پرست جھوٹے مدعیِ نبوت سے نہیں کیا جا سکتا؟۔ یہ بے مثال خود اعتمادی و بیباک شجاعت صرف اور صرف سچی وحیِ الٰہی کی سرپرستی میں میسر آ سکتی ہے۔
یہاں میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، اسلامی تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کو بھی یہ بات معلوم ہوگی کہ آنحضرت ﷺ کا ایک چچا ابولہب دینِ اسلام کی دعوت کا کٹر مخالف تھا۔ اسلام سے اس کی دشمنی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ ملعون راستا چلتے آپﷺ کا پیچھا کیا کرتا تھا، جہاں آپﷺ رک کر کسی کو وعظ و تبلیغ فرماتے یہ فوراً جا پہنچتا اور بڑی شدومد کی ساتھ آپﷺ کی تردید کرنے لگتا۔ الغرض زندگی کے ہر ہر شعبے میں محمد ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کے برعکس کرنا اس کی زندگی کا شیوہ تھا۔ اسی ابو لہب کی موت سے تقریباً دس سال پہلے آنحضرتﷺ پر ایک چھوٹی سورت نازل ہوئی۔ یہ مکمل سورت ابو لہب سے متعلق تھی اور یہی اس کا نام بھی پڑا۔ اس سورت نے پوری وضاحت اور قطعیت کے ساتھ ابو لہب کو جہنمی یا دوزخی قرار دیا ہے۔دوسرے الفاظ میں معلوم تاریخ میں پہلی بار کسی انسان کو مدتِ امتحان ختم ہونے سے پہلے ہی نتیجہ بتا دیا گیا۔قرآن جو کلامِ ربانی ہے اس میں اگر کسی کے بارے میں صراحت کے ساتھ اہلِ جہنم ہونے کا تذکرہ آ جائے تو اس کا سیدھا مفہوم یہ ہوگا کہ اب ایسے شخص کو قبولِ ایمان کی توفیق نہیں ہوگی اور ہمیشہ ہمیش کے لیے وہ ملعون و مردود ہی رہے گا۔
ابو لہب اس سورت کے نزول کے بعد دس سال تک زندہ رہتا ہے اور اس طویل مدت میں وہ اسلام کی بیخ کنی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھتا۔اس قدر اسلام دشمنی کے باوجود اس سے کبھی یہ نہ بن سکا کہ وہ بر سرِ عام یہ اعلان کر دیتا:
’لوگو!ہم سب نے سنا ہے کہ محمدﷺ کی وحی کے دعوے کے مطابق،میں کبھی اسلام قبول نہیں کروں گا اور میرا انجام دوزخ مقدر ہو چکا ہے، لیکن دیکھو میں آج اسلام میں داخلہ کا اعلان کرتا ہوں اور جان لو کہ میرا مسلمان ہو جانا محمد ﷺ کے لائے ہوئے قرآن کی روشنی میں ناممکن تھا، اب تم لوگ فیصلہ کرو کہ ایسی خدائی وحی کے بارے میں کیا کہو گے؟‘
وہ اگر ایسا اعلان کر دیتا تو یقین مانیے نہ صرف قرآن کی صداقت مشکوک ہو جاتی،بلکہ اسلام کی بیخ کنی کا اس کا دیرینہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہو جاتا۔ لیکن وہ ایسا نہ کر سکا، حالانکہ اس کی شر پسند طبیعت سے ایسے ردِ عمل کی بجا طور پر امید کی جا سکتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوتا، پورے دس سال گزر جاتے ہیں اور وہ اپنی طبعی موت مر کر ہمیشہ کے لیے واصلِ جہنم ہو جاتا ہے لیکن اس پوری مدت میں اس کے اندر قبولِ اسلام کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہو پاتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر محمدﷺ اللہ کے سچے رسول نہیں تھے تو انھیں یقینی طور پر کیسے معلوم ہوا کہ ابو لہب قرآن کی پیشین گوئی کو حرف بہ حرف درست قرار دیتے ہوئے بالآخر کفر پر ہی مرے گا؟محمد ﷺ کو یہ خود اعتمادی کہاں سے حاصل ہو گئی کہ وہ اپنے مشن کے کٹر مخالف کو کامل دس سال اس بات کا موقعہ دیے رہیں کہ اگر وہ چاہے تو ان کے دعوۂ نبوت کو جھوٹا ثابت کر دکھائے؟اس کا بس یہی جواب ہے کہ آپﷺ فی الواقع اللہ کے سچے رسول تھے۔ انسان وحیِ الٰہی کے فیضان سے سرشار ہو کر ہی اس قسم کا پرخطر چیلینج پیش کر پاتا ہے۔
محمد ﷺ کا اپنی صداقت پر یقین اور اس کی تبعیت میں اللہ کی نصرت و حفاظت پر اعتماد کس بلندی کو پہنچا ہوا تھا، ہم اس کی دوسری مثال پیش کرتے ہیں۔ ہجرت کے موقعے پر آپﷺ نے مکہ کو خیر باد کہہ کر حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ مشہور پہاڑ’’ ثور‘‘ کے ایک غار میں پناہ لی تھی۔ کفارِ مکہ آپﷺ کے خون کے پیاسے بن کر پوری طاقت کے ساتھ آپﷺ کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ایسی ہولناک صورتِ حالات میں یہ ہوتا ہے کہ تلاش کرنے والی ایک پارٹی قدموں کے نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے ٹھیک اسی غار کے بالمقابل پہنچ جاتی ہے جس میں آپﷺ پناہ گزیں تھے۔ بس لمحہ کی دیر تھی کہ کوئی اس غار میں جھانک کر دیکھ لے اور اسلامی تاریخ کوئی دوسرا رخ اختیار کر نے پر مجبور ہو جاتی۔ حضرت ابو بکرؓ بھی حالات کی سنگینی سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ یقین جانیے اگر محمدﷺ اپنے دعوے میں جھوٹے ہوتے اور آپ کی رسالت محض ایک دھوکا ہوتی، تو ایسی صورت میں آپ کا فطری ردِ عمل یہ ہونا چاہیے تھا کہ آپ ﷺ اپنے ساتھی سے کہتے:
’اے ابوبکرؓ ذرا غار کے پچھلی طرف جا کر تو دیکھو، کیا وہاں کوئی جائے فرار ہے؟یا فرماتے:ابو بکرؓ ! وہاں کونے میں دبک کے بیٹھ جاؤ اور بالکل آواز نہ کرو۔‘
آپﷺ نے ایسا کچھ نہیں فرمایا، اس وقت آپﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے جو کہا وہ آپﷺ کے توکل علی اللہ کا غماز اور اپنی نبوت کی سچائی پر کامل یقین کا مظہر تھا۔ قرآن نے اس وقت کی نازک صورتِ حال میں آپ کا ردِ عمل (
Reaction)اس طرح ذکر کیا ہے:

ثَانِیَ اثْنَیْْنِ ِذْ ہُمَا فِیْ الْغَارِ اِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّہَ مَعَنَا(التوبہ: ۴۰)

’جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘
اب مذکورہ بالا مثالوں کی روشنی میں فیصلہ کیجیے کہ کیا کسی جھوٹے،دھوکے باز مدعیِ نبوت کو ایسی پرخطر صورت حال میں اپنے جھوٹ پر اس درجہ اعتماد ہو سکتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ یقین و توکل کی یہ کیفیت کسی کاذب فریبی کو میسر آ ہی نہیں سکتی۔ جیسا کہ پیچھے ذکر آیا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو وحیِ الٰہی نہ ماننے والے اپنے آپ کو ایک خالی دائرہ (Vacant Circle )میں گھرا پاتے ہیں اور ان سے کوئی معقول جواب نہیں بن پاتا۔ کبھی وہ محمد ﷺ کو ایک دیوانہ شخص گردانتے ہیں اور کبھی جھوٹا دھوکہ باز۔ ان کی عقل میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ دیوانگی اور مکاری متضاد صفات ہیں اور کسی ایک آدمی میں ان کے اجتماع کی بات کہنا بذاتِ خود پاگل پن کی علامت ہے۔
سات سال پہلے کی بات ہے، میرے ایک وزیر دوست میرے گھر تشریف لائے تھے۔ ہم جس کمرے میں گفتگو کر رہے تھے، وہاں قریب میز پر قرآن مجید رکھا ہوا تھا، جس کے بارے میں وزیر موصوف کو علم نہیں تھا۔ دورانِ گفتگو میں نے قرآن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ وزیر صاحب نے از راہِ تفنن کتاب پر ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر فرمایا: ’’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اگر یہ کتاب بائبل نہیں ہے تو ضرور بالضرور کسی انسان کی تصنیف کردہ ہے۔‘‘ میں نے ان کے دعوے کے جواب میں صرف اتنا کہا: ’’چلئے میں آپ سے اس کتاب میں موجود چند باتوں کا تذکرہ کرتا ہوں۔ اور تین یا چار منٹوں میں، میں نے ان کے سامنے قرآن کے چند علمی حقائق پیش کر دیے۔ ان چند منٹوں نے اس کتاب کے تعلق سے ان کے نظریہ میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی، انھوں نے کہا: ’’آپ کی بات سچ ہے، اس کتاب کو کسی انسان نے نہیں بلکہ شیطان نے لکھا ہے۔‘‘
میری نظر میں اس قسم کا احمقانہ لیکن افسوسناک موقف اختیار کرنے کی کچھ وجوہات ہیں : اولاً یہ ایک جلدی میں تراشا ہوا سستا عذر ہے، اس کے ذریعہ کسی بھی لاجواب کر دینے والی سچویشن سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ بائبل کے عہد نامہ میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ درج ہے۔ قصّے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنی معجزاتی قوت سے ایک مردہ آدمی کو زندہ کر دیتے ہیں۔ اس آدمی کی موت چار دن پہلے واقع ہو چکی تھی، لیکن حضرت عیسیٰ کے ’قم‘ کہہ دینے سے وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس حیرتناک منظر کا مشاہدہ بعض یہودی بھی کر رہے تھے، اس واضح معجزہ کو سر کی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ان کا جو تبصرہ تھا وہ قابل عبرت ہے۔ انھوں نے کہا: ’’یا تو یہ شخص (حضرت عیسیٰؑ ) بذات خود شیطان ہے یا شیطان اس کی مدد کر رہا ہے۔‘‘ اس قصے کو دنیا بھر کے عیسائی کلیساؤں میں بار بار ذکر کیا جاتا ہے اور عیسائی حضرات موٹے موٹے اشک بہاتے ہوئے اس قصے کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’اگر ہم اس جگہ ہوتے تو یہودیوں کی سی حماقت ہم سے سرزد نہ ہوئی ہوتی۔‘‘ لیکن رونے کا مقام ہے کہ بعینہ یہی لوگ تین چار منٹ میں چند قرآنی علمی معجزات کو جان لینے کے بعد وہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو ان کے نبی کے تعلق سے یہودیوں نے کیا تھا، یعنی یہ شیطان کا کام ہے یا اس کتاب کی تیاری میں شیطان کا تعاون شامل رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ حضرات جب مباحثہ کے دوران کسی تنگ زاویے میں پھنس جاتے ہیں اور کوئی معقول و مقبول جواب انھیں سجھائی نہیں دیتا تو پھر ان کی جانب سے اسی طرح کے سستے اور ریڈیمنڈ اعزاز کا سہارا لیا جاتا ہے۔
اس قسم کے کمزور فکری موقف کی دوسری مثال ہمیں کفارِ مکہ کے یہاں بھی دکھائی پڑتی ہے۔ اسلامی دعوت کے سامنے علمی و عقلی سطحوں پر ہزیمت اٹھانے کے بعد انھوں نے بھی اسی نوعیت کے عذر تراشنے شروع کر دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شیطان ہی ہے جو محمدﷺ کو قرآن کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے اس طرح کی ساری افواہوں، عذر تراشیوں اور الزامات کی پر زور تردید کی ہے۔ اس سلسلے کی ایک خاص آیت یہ ہے:

وَمَاھُوَ بِقَوْلِ شَیْطَانِ رَجِیْمٍoفَأَیْنَ تَذْھَبُوْنَoاِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَo(التکویر۲۵-۲۷)
’’یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے، پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟ یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔‘‘

اور اس طریقے سے قرآن نے، ان خیالی مفروضات کی قلعی کھولی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم میں بے شمار ایسے دلائل و شواہد موجود ہیں جو اس مفروضے کی، پوری وضاحت کے ساتھ تردید کرتے ہیں۔ مثلاً قرآن کی چھبیسویں سورت میں ارشاد فرمایا گیا ہے:


وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُ
oوَمَایَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَo اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَo (الشعراء:۲۱۰-۲۱۲)
’’اس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اُترے ہیں، نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں، وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں۔‘‘

اور ایک دوسری جگہ یہ تعلیم دی جاتی ہے:

فَاِذَا قَرَأَتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (النحل:۹۸)
’’جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔‘‘

اب ان آیات پر غور کر کے بتایا جائے کہ کیا شیطان اس طرح کی کتاب خود تیار کرسکتا ہے؟ کیا شیطان اتنا ہی سادہ لوح ہے کہ وہ اپنے قارئین سے التماس کرے گا کہ دیکھو میری کتاب پڑھنے سے پہلے تم اللہ سے اس بات کی دُعا ضرور کرو کہ وہ میرے کید و شر سے تمھاری حفاظت فرمائے۔ اس طرح کی حرکت آخری درجہ کی خود فریبی و حماقت ہے جس کی توقع انسان سے تو کی جا سکتی ہے مگر شیطان سے نہیں۔
مسئلہ کا دوسرا رُخ یہ ہوسکتا ہے کہ شاید شیطان ہی نے انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس قسم کی ہدایت شامل کر دی ہے، تاکہ سادہ لوح سامعین اس پر فریب نصیحت کے بعد اس کی کتاب کے دجل و فریب کا آسانی کے ساتھ شکار ہوتے رہیں۔ لیکن یہاں پر ایک انتہائی خطرناک سوال رونما ہو جاتا ہے کہ کیا حکمت الٰہی کے تحت اس قسم کی آخری درجہ کی فریب دہی کا اختیار شیطان کو تفویض کیا گیا ہے؟ اور کیا اس طرح کے مفروضے کو مان لینے کے بعد کسی بھی موجودہ مذہب و دین کی صداقت شبہات کے دائرہ میں نہیں آ جاتی ہے؟ بہت سے عیسائی دینی رہنما اس بارے میں صراحت کے ساتھ توقف کا پہلو اختیار کر لیتے ہیں۔ جب کہ عیسائیوں کی اکثریت اس بات کا اعتقاد رکھتی ہے کہ شیطان ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ اگر وہ کرنا بھی چاہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ اگر شیطان کو اس قسم کی در اندازیوں اور چالبازیوں پر قادر مان لیا جائے گا تو دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کا نفس وجود بھی شک و انکار کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔ لیکن قرآن کے سلسلے میں اکثر غیر مسلم حضرات کا رویہ عملی طور پر یہی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک شیطان وہ سبھی کچھ کرسکتا ہے۔ جو صرف اللہ کی قدرت کاملہ سے متوقع ہے۔ کیوں کہ یہ لوگ قرآنی حقائق کے تئیں اپنی حیرت وپسندیدگی کا اقرار کرنے کے باوجود، اس کو شیطانی کارنامہ قرار دینے پر مصر نظر آتے ہیں۔
اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ مسلم معاشرہ اس شیطانی مرض سے محفوظ ہے۔ ہمارے نزدیک شیطان کو کچھ استثنائی قوتیں حاصل تو ہیں لیکن ان قوتوں کا تقابل، اللہ کی قدرت کاملہ سے کرنا ایسا ہی ہے کہ سمندر کے مقابلے پانی کی چند بوندیں، یہی اسلام کا عقیدہ ہے اور اس کا اعتراف کیے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اب ایک دوسرے پہلو سے غور کیجئے، عام آدمی تک کے احاطۂ معلومات میں یہ بات ہے کہ شیطان سے غلطیوں کا صدور ہوتا ہے اور یہ کہ وہ معصوم عن الخطا نہیں ہے۔ اس عام معلومات کا لازمی تقاضا بنتا ہے کہ وہ اپنی تصنیف کردہ کتاب کو بھی غلطیوں اور تناقضات سے بھر دے، جب کہ قرآن صراحت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ اس کے اندر کسی قسم کا تناقض نہیں کیونکہ وہ منزل من اللہ ہے۔

اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً۔ (النساء:۸۲)
’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ہے۔‘‘

عام طورسے غیر مسلموں کے پاس اور بھی کچھ اعذار ہیں جن کی بنیاد پر، قرآن کو انسانی قوت مخیلہ کی اختراع قرار دیا جاتا ہے۔ غیر مسلموں کی جانب سے کیے گئے اسلام کے گہرے مطالعہ اور بحث و تحقیق کا جو حاصل عموماً نظر آتا ہے وہ چند باہم متناقض مفروضات کا پلندہ ہے۔ بیشتر مفروضوں کا بنیادی تھیم یہی ہوتا ہے کہ دراصل محمدﷺ کو ایک نفسیاتی بیماری لاحق تھی، اس بیماری کا نام اسطوری لمس یا خود پسندی کا جنون (Mythomania) ہے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص اپنے ہر جھوٹ کو دل کی گہرائیوں سے سچ سمجھتا ہے۔ غیر مسلموں کا کہنا ہے کہ محمدﷺ بھی دراصل ایک ایسے ہی انسان تھے، ان کو اپنے بارے میں نبی ہونے کا واہمہ ہو گیا تھا۔ ان حضرات کے اس نظریہ کو بفرض محال کچھ دیر کے لیے تسلیم کر بھی لیا جائے تو بڑی دشواری یہ پیدا ہو جاتی ہے کہ اس مرض میں مبتلا انسان کبھی بھی زندگی کی سچائیوں اور روز مرہ کے واقعات سے خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتا، لیکن محمدﷺ کے کیس میں ہم پاتے ہیں کہ ان کی لائی ہوئی کتاب پوری کی پوری حقائق پر مبنی اور واقعات کا مرقع ہے۔ اور قرآن کا مبنی بر حقیقت و صداقت ہونا، ہر انسان خود بخود بحث و تحقیق کر کے جان سکتا ہے۔
اس مرض میں مبتلا انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خیالی دنیا میں رہنے والا گوشہ نشیں بن جاتا ہے۔ وہ جیتے جاگتے سماج کی گہماگہی کا سامنا نہیں کر پاتا، اس لیے خاموشی کے ساتھ اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ جدید نفسیاتی طب بھی ایسے شخص کا علاج یہی تجویز کرتی ہے کہ اسے تسلسل کے ساتھ حقائق کی دنیا سے دوچار کرایا جاتا رہے۔ مثال کے طور پر اگر ایسا نفسیاتی مریض اپنے آپ کو انگلینڈ کا بادشاہ خیال کرتا ہے، تو اس کا معالج اس کی تردید میں یہ نہیں کہے گا کہ ’’تم بادشاہ نہیں ہو، بلکہ حقیقت میں تمہیں دماغی شکایت ہے‘‘۔ ایسے مریض کے طریقۂ علاج کی رو سے فوراً تردید کے بجائے اس کے سامنے حقائق پیش کیے جائیں گے۔ مثلاً اس سے کہا جائے گا: اگر تم ہی انگلینڈ کے بادشاہ ہو تو بتاؤ آج ملکہ کہاں قیام پذیر ہوں ؟ اور تمھارے وزیر اعظم کا اسمِ گرامی کیا ہے؟ اور تمھارے شاہی پہرے دار بھی نہیں معلوم کہاں ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کا مریض ان سوالوں کے جواب میں صعوبت محسوس کرتے ہوئے الٹے سیدھے جواب دے گا، مثلاً آج ملکہ اپنے مائیکے گئی ہیں۔ وزیر اعظم کا انتقال ہو گیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور آخر کار ان حقائق کی کوئی معقول توجیہہ نہ پاکر وہ اس مضحکہ خیز مرض سے شفا پا جاتا ہے اور جیتے جاگتے واقعات کے سامنے سپرڈالتے ہوئے مان لیتا ہے کہ حقیقت میں وہ انگلینڈ کا بادشاہ نہیں ہے۔
قرآن حکیم کا اپنے سرکش مخالفین کے ساتھ تعامل بھی کم و بیش وہی ہوتا ہے، جو نفسیاتی نقطۂ نظر سے مائتھومینیا میں مبتلا شخص کے ساتھ برتا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ایک معجزہ نما آیت ہے:

یَآأیُّہَاالنَّّاسُ قَدْ جَاء تْکُمْ مَّوْعِظََۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَ شِفَاء لَّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ وَ ھُدَی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُوۂ مِنِیْنَ۔ (یونس: ۵۷)
’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے، یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہ نمائی اور رحمت ہے‘‘۔

پہلی نظر میں یہ آیت بڑی مبہم اور غامض دکھائی پڑتی ہے— لیکن مذکورہ بالا مثال کی روشنی میں اس کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدقِ نیت کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھنے والا یقینی طور پر ضلالت و تاریکی سے نجات پاتا ہے۔ قرآن حکیم نفسیاتی طریقۂ علاج استعمال کرتے ہوئے، صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے فریب خوردہ لوگوں کی مسیحائی کرتا ہے اور ظلمتوں کے خوگر مریضوں کے سامنے حقائق اور واقعات کا نور روشن کر دیتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن حکیم اکثر و بیشتر لوگوں سے کہتا ہے:
’’اے لوگو! تم قرآن کے بارے میں ایسا ایسا کہتے ہو، لیکن فلاں فلاں چیز کے بارے میں تم کیا کہو گے؟ اور تم فلاں بات کیسے کہہ سکتے ہو جب کہ تم جانتے ہو کہ اس کے لازمی نتائج دوسری طرف اشارہ کر رہے ہیں ‘‘۔
اس طرح قرآن حکیم اپنے قارئین کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ مسئلے کی تمام ابعاد (
Dimensions) اور پہلؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی شئے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراس پورے پروسس (Process) میں، وہ انسان کو گم راہی کی تنگ نائیوں سے نکال کر ہدایت کی وسیع شاہراہ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اس پر حکمت لائحۂ عمل کے ذریعے سے، لاشعوری طور پر انسان کے حاشیۂ خیال تک سے یہ احمقانہ اعتقاد زائل ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم میں بیان کردہ حقائق کسی انسانی ذہن کی اپج یا پینک ہیں۔
قرآن کریم کا یہ لوگو ں کو حقائق و واقعات کے ذریعے قائل کرنے والا انداز ہی متعدد غیر مسلموں کے اسلام کی طرف متوجہ ہونے کا باعث بنا ہے۔ عصر حاضر کے ایک اہم علمی مرجع جدید کیتھولک انسائیکلو پیڈیا (
New Catholic Encyclopedia) میں قرآن کریم سے متعلق قابل ذکر تبصرہ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے کیتھولک چرچ نے صراحت کے ساتھ یہ اعتراف کیا ہے: ’’ماضی کے مختلف ادوار میں قرآن کریم کے مصدر و منبعِ معلومات کے متعلق مختلف نظریات پیش کئے گئے ہیں، لیکن آج کسی عقلِ سلیم کے حامل انسان کے لیے ان میں سے کسی نظریے کو مان لینا ممکن نہیں ‘‘۔
تاریخ میں اپنی اسلام دشمنی میں بدنام کیتھولک چرچ کو بھی مجبوراً قرآن حکیم کو انسانی دماغ کی پیداوار سمجھنے والے نظریات کو غیر معقول قرار دینا پڑا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قرآن حکیم تمام عیسائی چرچوں کے لیے ہمیشہ سے بڑا دردِسر رہا ہے۔ ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ قرآن حکیم سے کوئی ایسی دلیل ڈھونڈ نکالیں، جس کے ذریعے سے قرآن حکیم کو الہامی کلام کے بجائے انسانی کلام قرار دیا جا سکے، لیکن عملاً ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ اِس سلسلے میں کیتھولک چرچ دیگر چرچوں سے اس بات میں ممتاز ہے کہ اس نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مروجہ تمام احمقانہ توجیہات کو لغو قرار دیا ہے۔ کنیسا (
Church) کی تصریح کے مطابق گزشتہ چودہ صدیوں میں قرآنی مظہرہ (Phenomenon) کی کوئی منطقی و معقول تفسیر پیش نہیں کی جا سکی ہے۔ بالفاظ دیگر اس کو اقرار ہے کہ قرآن حکیم کا قضیہ اتنا آسان نہیں کہ اسے درخورِ اعتناء ہی نہ سمجھا جائے۔ بلاشبہ دوسرے لوگ اتنے علمی اعتراف و احترام کے بھی روادار نہیں ہوتے، بل کہ ان کا عام رد عمل یہی ہوتا ہے کہ ’’یہ قرآن حکیم ہوسکتا ہے اس طرح تصنیف دیا گیا ہوگا یا اس طرح‘‘۔ ان ٹامک ٹوئیوں میں سرگرداں یہ حضرات بیشتر اوقات خود اپنے اقوال کی نامعقولیت اور باہمی تناقض کا ادراک نہیں کر پاتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ کیتھولک کنیسا کی یہ تصریح خود عام عیسائی حضرات کے لیے دشواری پیدا کر دیتی ہے، کیوں کہ اس تصریح کی موجودگی میں ان کا قرآن کریم کے تئیں معاندانہ رویہ اپنا مذہبی اعتبار کھو دیتا ہے۔ چوں کہ ہر عیسائی شخص کے دینی فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ہر صورت میں اپنے چرچ کے احکام و فرامین کا پابند رہے گا۔ اب اگر کیتھولک چرچ اعلان کرتا ہے کہ قرآن حکیم کے بشری تخلیق ہونے سے متعلق بازار علم میں جو بھی نظریات پھیلے ہوئے ہیں ان پر کان نہ دھرا جائے، تو ایک عام عیسائی اس مخمصے کا شکار ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی دوسری توجیہ معتبر نہیں ہے تو آخر مسلم نقطۂ نظر سے اس پر غور کیوں نہ کیا جائے؟ اس کا اعتراف تو سبھی کرتے ہیں کہ قرآن حکیم میں کچھ تو ہے، جس کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا جب کسی دوسری تفسیر کا اعتبار نہیں تو آخر کیوں قرآن حکیم سے متعلق مسلم عقیدے کے لیے معاندانہ موقف کو برقرار رکھا جائے؟ مجھے معلوم ہے کہ مسئلے کے اس پہلو پر وہی غیر مسلم حضرات غور و تدبر کرسکیں گے جن کی بصیرت کو اندھے دینی تعصب نے بالکل محو نہیں کر دیا ہے اور جو حقائق کو کسی خاص فکر ونظرئیے کی عینک سے دیکھنے کے عادی نہیں ہوئے ہیں۔
موجودہ کیتھولک چرچ کے صف اول کے ممتاز رہنماؤں میں ایک نام مسٹر ہانس (
Hans) کا آتا ہے۔ موصوف نے ایک مدت دراز تک قرآن حکیم پر ریسرچ کیا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے متعدد اسلامی ممالک میں لمبے عرصے تک قیام بھی کیا ہے۔ کیتھولک دنیا میں ان کو کافی اعتبار حاصل ہے۔ اپنے طویل ریسرچ کے خلاصے کے طور پر انھوں نے ایک رپورٹ مرتب کی تھی جو حالیہ دنوں میں شائع بھی ہوگئی ہے۔ اس رپورٹ میں انھوں نے لکھا ہے : ’’اللہ رب العزت نے محمد ﷺ کے واسطے سے انسان سے ہم کلامی کی ہے‘‘۔ ایک بار پھر ایک ممتاز غیر مسلم دینی را ہ نما نے، جو اپنے حلقوں میں معتبر بھی خیال کیا جاتا ہے، اس بات کی شہادت دی ہے کہ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کیتھولک بابا (Pope) نے اس رائے کو مان لیا ہوگا، لیکن اس کے باوجود، عوامی مقبولیت کے حامل کسی معروف دینی راہ نما کا قرآن حکیم کے تئیں مسلم نقطۂ نظر کی تائید کرنا اپنے آپ میں کافی سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔ مسٹر ہانس اس حوالے سے بھی تحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس واقعی حقیقت کا اعتراف کیا کہ فی الواقع قرآن کریم میں ایسا کچھ ہے جسے آسانی سے نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا اور ایسا اس لیے ہے کہ درحقیقت قرآنی کلمات کا مصدر و منبع خود ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔
جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ قرآن حکیم سے متعلق تمام احتمالات ختم ہو جاتے ہیں۔ مزید کسی ایسے احتمال کا امکان نہیں رہ جاتا جس کی موجودگی میں قرآن حکیم کا انکار لازم آتا ہو۔ قرآن کریم اگر وحی ربانی نہیں ہے تو وہ ایک دھوکا اور فریب ہے، اور اگر وہ دھوکا اور فریب ہے تو ہر انسان کو حق پہنچتا ہے کہ وہ معلوم کرے کہ اس عظیم الشان فریب کا مصدر کیا ہے اور کس کس مقام پر یہ کتاب ہمیں دھوکا دے رہی ہے؟ سچ بات تو یہ ہے کہ ان سوالات کے صحیح جوابوں پر ہی بڑی حد تک قرآن حکیم کی صداقت و صحت کا انحصار ہے اور ان سوالات پر چپ سادھ لینا اشارہ کرتا ہے کہ دعوے داروں کے پاس اپنے موقف کی تائید میں کچھ نہیں ہے۔ اتنا سب کچھ جان لینے کے باوجود اگر مخالفین کو اصرار ہے کہ قرآن حکیم محض ایک فریب ہے، تو انھیں اس دعوے کے کچھ دلائل بھی پیش کرنے چاہئیں۔ کیوں کہ اب دلائل دینے کی ذمے داری ان کی بنتی ہے اور یہ کوئی صحتمند رویہ نہیں کہ کوئی بھی شخص کسی معقول دلیل کے بغیر اپنے گھسے پٹے نظریے کو بس پیش کرتا رہے۔ میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں : ’’مجھے قرآن حکیم میں موجود کوئی ایک دھوکا یا جھوٹ لا کر دکھاؤ۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو اس کو مکر و فریب یا جھوٹ کہنا بند کرو‘‘

گیری میلر ،کینیڈا کا ماہر علم ریاضی و منظق ۔۔  کہ جس نے قرآن کو چیلنج کیا تھا۔
Source
 

مسلم سائنسدانوں کی روشن ایجادات

کافی کے بیج، منبر، باغات، یونیورسٹی اور آبزرویٹری میں کیا چیز مشترک ہیں؟ لیونارڈو ڈی ونچ اور فیبونیسی کو پرواز اور نمبرز کا خیال کہاں سے آیا؟ یہ سب اس پُرکشش مسلم تہذیب کی کرامات ہیں جس وقت یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا تو مسلمان سائنسی اور ثقافتی دریافت کے روشن باب تحریر کر رہے تھے۔
اس سے قطع نظر کہ اب یورپ مسلمانوں سے سائنسی لحاظ سے صدیوں آگے نکل چکا ہے تاہم مسلم تاریخ کے اس روشن دور کی چند ایسی اہم ایجادات کا احوال جاننا یقیناً دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا جس نے آج کی جدید ترین دنیا کی بنیاد رکھی اور آج ٹیکنالوجی کے لحاظ سے انسانی تاریخ کے سب سے اہم ترین دور سے مستفید ہو رہے ہیں۔

کافی

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کافی جو آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک ہے، درحقیقت مسلمانوں کی ایجاد ہے اور یہ کسی سائنسدان کا نہیں بلکہ عام چرواہے عرب کا کارنامہ ہے، جو اپنے جانوروں کو چرا رہا تھا کہ اسے ایک نئے طرز کا بیری ملا اور انہیں ابالنے کے بعد دنیا میں پہلی بار کافی تیار ہوئی۔

ناسا سپیس سینٹر
از جاوید چوہدری 

ناسا کا سپیس سینٹر ہیوسٹن سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ یہ سینٹر انسانی معجزہ ہے‘ یہ امریکا کے صدرآئزن ہاور نے 1958ء میں بنوایا تھا‘ ناسا کا مقصد خلا کی تحقیق تھا‘ ناسا نے پائینیرون کے نام سے 1958ء میں پہلا خلائی مشن روانہ کیا‘ یہ مشن زیادہ کامیاب نہ ہوسکا‘ ناسا نے اس کے بعد 71 خلائی مشن روانہ کیے‘ 1969ء میں اپالو 11 چاند پر اترنے میں کامیاب ہو گیا‘ چاند گاڑی میں دو خلانورد نیل آرم اسٹرانگ اور ایڈون بز سوار تھے۔
نیل آرم اسٹرانگ پہلا انسان تھا جس نے چاند پر قدم رکھا یوں چاند پر پہنچنے کا انسانی خواب پورا ہو گیا‘ یہ انسانی تہذیب اور تاریخ کا محیرالعقول واقعہ تھا‘ یہ واقعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گیا‘ ناسا نے اس کے بعد چھ مشن چاند پر بھجوائے‘ ان میں اپالو 13 بھی شامل تھا‘ یہ مشن 11 اپریل 1970ء کو بھجوایا گیا لیکن چاند کے قریب پہنچ کر چاند گاڑی کا آکسیجن ٹینک پھٹ گیا‘ مشن واپس آیا‘ تینوں خلا نورد جیمز لوویل‘ جان سویگرٹ اور فریڈ ہیز بڑی مشکل سے زمین پر اترے‘ کامیابی اور ناکامی کی یہ تمام داستانیں ناسا کی دیواروں پر تحریر ہیں اور میں یہ داستانیں پڑھنے کے لیے 28 مئی 2017ء کو ناسا پہنچ گیا۔
ناسا کے دو حصے ہیں‘ پہلا حصہ ہیوسٹن میں ہے اور دوسرا فلوریڈا کے شہر کیپ کنورل میں واقع ہے‘ خلا پر تحقیق‘ چاند گاڑی کی تیاری اور خلا نوردوں سے رابطے یہ کام ہیوسٹن کے سپیس سینٹر میں ہوتے ہیں جب کہ خلائی شٹل کیپ کنورل سے لانچ کی جاتی ہے‘ کیپ کنورل گلف آف میکسیکو کی ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں سے پیسفک اور اٹلانٹک اوشین دونوں قریب ہیں‘ یہ شہر شاید اس لیے خلائی شٹلز کی لانچ کے لیے منتخب کیا گیا کہ اگر خدا نخواستہ شٹل گر جائے یا اسے کوئی حادثہ پیش آ جائے تو یہ شہری آبادی پر گرنے کے بجائے گلف آف میکسیکو‘ اٹلانٹک یا پیسفک اوشین میں گرے یوں لوگ اور ناسا دونوں بڑے نقصان سے بچ جائیں‘ ناسا عوام کے لیے اوپن ہے۔

  ڈارون کا فراڈ نظریۂ ارتقا اور اس کی درمیانی کڑی ، پِلٹ ڈاؤن مین 

رضی الدین سیّد


برطانوی مفکر ’چارلس رابرٹ ڈارون (
۱۸۰۹ء۔۱۸۲۲ء) ، ایک ڈاکٹر کا بیٹااور ایک بایالوجسٹ تھا،ا ور خوش حال خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے اپنے دور میں نظریۂ ارتقا پر ایک کتاب On the Origin of Speciesتحریر کی تھی جس میں اس نے اپنی تحقیقات سے ثابت کیا تھا کہ ہر جان دارنے درجہ بدرجہ ترقی کرکے ہی اپنی موجودہ اصلی شکل اختیار کی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ، مثلاً زرافے نے اپنی موجودہ گردن اونچی اونچی شاخوں سے غذا حاصل کرنے کے لیے ہی رفتہ رفتہ لمبی کی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ انسان نے بھی درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے ہی اپنی موجودہ انسانی شکل اختیار کی ہے۔اس کے نزدیک بندر (چیمپینزی) نے پہلے پہل اپنے اگلے دونوں پاؤں اُوپر اٹھائے تھے ،جھکی ہوئی حالت میں زندگی گزارنے کے قابل ہوا تھا، اورپھرر فتہ رفتہ اس کے جسم کے گھنے بال کم ہونے شروع ہوئے تھے ۔اس کے بعد ہی سے اس میں عقل کی نشوو نما بھی ہونے لگی تھی۔ چنانچہ قطعی حتمیت کے ساتھ اس کا کہنا ہے کہ انسان کے آبا ؤ اجداد اپنی اصل میں بندر تھے۔وہ زور دیتا ہے کہ انسان پہلے ’انسا ن نما بندر ‘، پھر ’بندر نما انسان‘، اور پھر آخر کار ’ مکمل انسان ‘بن سکا ہے۔


ڈارون کے اس انکشاف نے سائنس دانوں کی ایک بڑی تعداد کو گویا ہلا کر رکھ دیا تھا اور وہ اس پر بلا تردّد ایمان رکھنے لگے ۔ حیرت انگیز طور پر آج کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ یہودی، ربی، ’بنجامن بلیخ ‘بھی اس کے نظریے کی تائید کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔وہ سوال کرتا ہے کہ ’’ ہمیں تورات کی جانب دیکھنا چاہیے کہ وہ اس ضمن میں ہمیں کیا سکھا تی ہے؟ ۔ وہ کہتی ہے کہ موجودہ دنیا، اپنی تکمیلی حالت میں ترقی کرتے ہوئے ہی اس آج کے دور تک نمودار ہوسکی ہے۔ بنجامن سمجھاتا ہے کہ تورات بیان کرتی ہے کہ’’ خدا نے تخلیقِ کائنات کا جب منصوبہ بنایا تھا تو سب سے پہلے دن اس نے ’دن ‘کو جنم دیا تھا ۔پھردوسرے دن اس نے’ آسمان ‘کی پیدایش کی تھی۔ تیسر ے دن ’ اس نے ’خشک زمین ‘کو جنم دیا تھا۔ چوتھے دن سورج اور چاند تاروں کی تخلیق۔ پانچویں دن ’مچھلیوں اور پانی‘ کی تخلیق، اور آخری اور چھٹے دن’ چوپایوں اور انسانوں ‘کی تخلیق کی تھی‘‘۔ ربی’ بنجامن‘ سوال کرتا ہے کہ پھر اگر انسان بھی اسی طرح بندر کی شکل و صورت ،اور عادات و اطوار سے تبدیل ہوتے ہوتے موجودہ اصل انسانی حالت میں سامنے آیا ہے تو اس میں اچنبھے کی کیا بات ہے؟۔ (Jewish History and Culture،امریکا،ص ۳۸۔۳۹)۔اتفاق دیکھیے کہ کمیونزم کا بانی کارل مارکس بھی ڈارون کی اس کتاب پر اپنی پسندیدگی کااظہار کرتاہو ا نظر آتا ہے۔

ربی کا یہ بیان بہرحال ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دشواری پیدا نہیں کرتا کہ یہودی مذہبی زعما بھی ڈارون کے نظریے سے متفق نظر آتے ہیں۔پھریہیں سے یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ مفاد پرست حضرات جھوٹ اور فاسد امور کی خاطر دلائل بھی آخر کہاں کہاں سے لے کر آتے ہیں، یعنی وہ اس معاملے میں مقدس کتابوں تک کو بھی نہیں بخشتے!

ایک طویل مدت تک ڈارون کے اس نظریے کی تشہیر ہوتی رہی۔ اپنی اصل الٰہی تخلیق، حضرت آدم ؑ و حو ؑ ا کو چھوڑ کر انھوں نے خود کو بآسانی بن مانسوں کی اولاد قرار دے لیا تھا۔اگرچہ اس نظریے کے رد میں آج خود مغرب سے بے شمار کتابیں منظرعام پر آرہی ہیں لیکن کوئی مضائقہ نہیں اگراس کے ایک دو پہلوؤں کا ہم خود بھی جائزہ لے لیں۔ 
کہاگیا تھا کہ انسان بننے کی جانب قدم اٹھاتے ہوئے اس نے پہلے اپنے اگلے دونوں پاؤں اٹھا لیے تھے اور جھک کر چلنے لگا تھا (اس قسم کی مفروضہ تصاویر بھی انسائی کلو پیڈیا میں عام نظر آتی ہیں)۔ تاہم عقل ان کی اس دلیل کو تسلیم کرنے سے اِبا کرتی ہے ۔ وہ اسے پہلی فرصت ہی میں رد کردیتی ہے کیونکہ انسان کچھ عرصے کے لیے تو جھک کر چل سکتا ہے لیکن اس صورت میں وہ خود کو مسلسل برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ایسا کرنااس کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ حیوانات بے فکر ہو کر، اور آرام سے یا تو چاروں ہاتھ پاؤں کی مدد سے چل سکتے ہیں یا پھر محض دو پیروں کی مدد سے۔لیکن یہ کہ ان کے پیر تو چار ہوں اور وہ چلیں سیدھے ہوکر محض دو پیروں کی مدد سے ، تویہ عمل حیوانات کے لیے ممکن ہی نہیں ہے! پھر یہ بھی کہا گیا کہ ارتقا کی منزل ہی میں زرافے نے اُونچے درختوں سے غذا حاصل کرنے کے لیے اپنی گردن موجودہ شکل میں تبدیل کی تھی۔حالانکہ یہ بھی محض ایک واہمہ ہی ہے کیونکہ سائنس دانوں نے بہت تحقیق کے بعد آگاہ کیا ہے کہ اب سے چار پانچ ہزار سال پہلے کے زرافے کے جو ڈھانچے دریافت ہوئے ہیں ،ان میں بھی اس کی گردن آج ہی کی مانندلمبی پائی گئی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈارون کے نظریات و انکشافات شکوک و شبہات کی نذر ہونے لگے ۔ حیرت انگیز طورپر سائنسی تحقیق سے صورت حال ایک بالکل نئے انداز سے سامنے آنے لگی۔ معلوم ہو ا کہ حقائق وہ نہیں ہیں جو ڈارون نے پیش کیے تھے ،بلکہ حقائق اس کے ماسوا کچھ اور ہیں۔ سائنس دانوں نے بتایا کہ ڈارون نے اپنے یہ نظر یات کسی بھی لحاظ سے ٹھوس بنیادوں پر استوار نہیں کیے ہیں۔ بات کی وضاحت کی خاطر انھوں نے اس موضوع پر دلائل بھی فراہم کیے، اور مضامین و مقالات کا ایک نہ رُکنے والا سلسلہ بھی شروع کیا ۔انھوں نے بتایا کہ انسان اپنی ابتدا میں بھی آج ہی کی طرح کاایک مکمل انسان تھا جس کا بندروں کی نسل چیمپینزی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن حقائق کی روشنی میں لائے جانے کے باوجود مذکورہ بالاگمراہ کن نظریہ آج بھی حسبِ سابق شدومد کے ساتھ پھیلا یا جارہا ہے۔نئی تحقیقات اپنی جگہ ،لیکن ڈارون کا نظریۂ ارتقا اپنی جگہ!۔ آخر ایسا کیوں ہے؟اس کی وجہ یہی ہے کہ دہریے نظریات کے حامل دانش ور ان، دنیا کے لوگوں کو ان کے تخلیق کرنے والے خدا سے بالکل کاٹ کے رکھ دینا چاہتے ہیں۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ مذہب اور خدا کا دنیا میں کہیں بھی چرچا ہوتا رہے۔ اسی سلسلے کو یہ لوگ ’الیو میناتی نظام‘(یعنی روشنی کا نظام)قرار دیتے ہیں۔ الیومیناتی دانش وران قرار دیتے ہیں کہ دنیا میں محض ان کے جنم شدہ شیطانی نظام ہی کو بالادستی دی جانی ہوگی اور اسی کا سکہ یہاں رائج ہو کر رہے گا۔اگرچہ وہ اسے ’روشنی کا نظام ‘ قرار دیتے ہیں لیکن اپنی اصل میں یہ ’ اندھیرے اور شیطنیت کا نظام‘ ہے ۔

چنانچہ انھی کے تربیت یافتہ مادہ پرست ذرائع ابلاغ ،اور روحانیت سے جان چھڑانے والے باغی سائنس دان ہیں جن کی تاریک کتابیں روشنی کے اس دور میں بھی مسلسل سامنے آتی چلی جارہی ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ بھی انھی کی مانند اس نظریے کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں، کیونکہ ان کی توفطرت ہی یہ ہے کہ حقائق سے زیاد ہ وہ افسانوں اور سنسنی خیزیوں میں دل چسپی لیتے ہیں۔ یہی ان کے روزگا ر کی شاہ کلید بھی ہے۔ چنانچہ انسانی ارتقا کے مختلف درجوں کی فرضی تصویریں دنیا بھر میں پھیلا دینے والے لوگ اور ادارے بھی یہی ہیں۔ انھی مفکرین نے کمپیو ٹر کی چال بازیوں کی مدد سے مردوں اور عورتوں(انسانوں) کو مکمل برہنہ حالت میں جسم پر گھنے بال رکھے ہوئے دکھا یا ہے اور انھیں تعلیمی نصاب میں شامل کروایا ہے۔ بلکہ حیرت انگیز طورپر وہ تو ان کے جسموں پر پتے بھی نہیں دکھاتے جن کا وہ تعلیمی اسباق میں بہت چرچاکرتے ہیں ۔حالانکہ بندر نما انسان یا انسان نما بندر اگر کسی حد تک چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تھا اور اس کا دماغ بھی کم از کم کسی درجہ ’ذہنی ترقی‘ بھی کرچکاتھا، تو اپنے پوشیدہ حصوں کو تو اسے فوراً ہی ڈھانپنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی کیونکہ شرم و حیا تو اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے ا ندربھی رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مر غی سب کے سامنے کبھی انڈے نہیں دیتی اور جانور اپنی دموں کو عموماًگرا کر ہی رکھتے ہیں ۔

آج کی ترقی یافتہ خواتین بھی چوبیس گھنٹے اور تین سو پینسٹھ دن بغیر لباس کے زندگی نہیں گزار سکتیں ۔کیونکہ مرد ہو یا عورت ، انسان اپنی شرم و حیا کے ہاتھوں مجبور ہے۔ دوسری جانب موسموں کے بھی اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں!۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ضمن میں ان الیومیناتی لوگوں کو ایک تصویر بھی اپنی اصلی حالت میں حاصل نہیں ہوسکی ہے!۔ سائنسی حقائق کے پہلو بہ پہلو یہ لوگ جعلی و مسترد شدہ نظریات کو بھی مسلسل گردش میں رکھتے ہیں ۔
پروپیگنڈا اصل میں ایک بہت طاقت ور ہتھیا ر ہے ۔ صحیح یا غلط ، دونوں نظریات کو بلا جبر، دنیا بھر کی
۷؍ارب کی آبادی سے اگرازخود منوانے کا کسی کا ارادہ ہو تو کتب، رسائل ،اور دیگر ذرائع ابلاغ ،اس کی اس آرزو کو چندسالوں ہی میں بآسانی پورا کرسکتے ہیں، جب کہ ان کی مدد کے بغیر ان کاذب نظریات کا رد ، اور اصل حقائق سے لوگوں کی با خبری،تقریباً ناممکن بنا دی جاتی ہے!۔

پِلٹ ڈاؤن مین (Piltdown Man)

ڈارون کے نظریے کی اشاعت کے کچھ ہی عرصے کے بعد اس کے خیالات کو بہ لطف و کمال آگے بڑھانے والے دین بے زار سائنس دانوں نے پھر ایک اور چال بھی چلی۔ انھوں نے بہت بعد میں ایک ایسا درمیانی انسان بھی’دریافت ‘ کر لیا جو بقول ان کے ۳۰۰، ۴۰۰ سالوں کے بعد بس مکمل انسان کی شکل میں ڈھلنے ہی والا تھا۔
یہ
۱۹۱۲ء کی بات ہے جب انگلینڈ میں اسی کے تقریباً ہم نام ایک اور سائنس دان چارلس ڈاسن نے برطانوی گاؤں Piltdownمیں ایک حیوانی سر کا ڈھانچا پایا جس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے سر کا ڈھانچا اور جبڑے کی ہڈی چیمپینزی کی، اور دانت انسانوں کے سے بتائے گئے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد حتمی طور پر طے کردیا گیا کہ ڈارون کی جانب سے پیش کیا جانے والا نظریۂ ارتقا بالکل درست تھا،اور یہ کہ یہ انسان اس کا عملی و عقلی ثبوت ہے ۔ ڈھانچا چونکہ ’پِلٹ ڈاؤن ‘ نامی علاقے برطانیہ سے ملا تھا،اس لیے ڈھانچے کو بھی Piltdown Manکہہ کر پکارا جانے لگا ۔ 
اپنی اس دریافت پر سائنس دان اس درجے خوش ہوئے کہ پھر اس پر وہ تحقیقی مقالے لکھنے لگے اور اسے نصاب میں شامل کروایا۔ کہا گیا کہ انسانی و حیوانی یہ ڈھانچا کم از کم
۵لاکھ سال پرانا ہے ۔مزید یہ بھی کہا گیا کہ یہ ڈھانچا کسی یورپی فرد کا ہے، جب کہ بعض اخبارات نے حسبِ دستور اسے کسی عورت کا ڈھانچا گردانا!۔ اپنے کارنامے پر یہ حضرات اس درجے پُر مسرت تھے کہ اس پر کم از کم ۵۰۰مقالے لکھے گئے اور ۴۰برسوں تک اسے اہمیت دی جاتی رہی۔ حدیہ ہے کہ آج کل کے ’ایچ جی ویلز‘ اور ’برٹرینڈ رسل‘ جیسے معروف دانش ور حضرات بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انھوں نے اسے اپنی کتابوں بالترتیب The Outline of Historyاور A History of Western Philosophyمیں انسان کی جدید علمی فتوحات میں شمار کیا۔ تاہم دھوکے بازی زیادہ دیر تک اپنا بھرم نہیں رکھ سکی کیونکہ دھوکا بازی بہرحال دھوکا بازی ہی ہوتی ہے اور حقائق بہرحال اپنا آپ منوا کر ہی رہتے ہیں۔چنانچہ ۴۰برسوں کے بعد جاکر کہیں پتا لگا کہ اس ڈھانچے کی تمام تر کہانی بے بنیاد ہے۔

برطانوی عجائب گھر کے ایک نگراں Kennith Okleyنے ۱۹۵۲ء میں اس پر کچھ مزید طبی و سائنسی تحقیقات کیں تو پتا لگا کہ اس کے بارے میں جو کچھ کہا اور لکھا گیا ہے ، وہ کئی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ ا س نے آگاہ کیا کہ کسی فرد نے چیمپینزی کے بڑے دانتوں کو گھس کر انسانوں جیسا چھوٹا کیا ہے اور ڈھانچے کو ایک خاص رنگ سے رنگ دیا ہے تاکہ ایک نئی انسان و بندر نما شکل سامنے آسکے۔

اس نئے انکشاف نے تو گویا سائنس کی دنیا میں ایک بار پھر وہی قدیم ہلچل مچا دی ۔کس کو پتا تھا کہ عظیم سائنس دان ’ڈارون‘ کا نظریہ یوں بالکل تار تار ہوجائے گا کیونکہ اس طرح کی صورتِ حال کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا۔بہرحال بہت چھان پھٹک کرنے کے بعد آ خر کا ر اعلان کردیا گیا کہ ’’دریافت شدہ ڈھانچا سائنسی لحاظ سے تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا ہے !‘‘۔ جدید ماہرین نے واضح کیا کہ مذکورہ ’ شکل و صورت‘ میں بعض جعل سازیاں کی گئی ہیں اور انسان کی شکل میں ڈھالنے کی ایک دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ چیمپینزی کا جبڑا وغیرہ بھی کسی لاکھوں سال پہلے کا نہیں بلکہ محض حالیہ مرے ہوئے کسی بندر کا ہے۔ اس انکشاف کے نتیجے میں ہلچل کے بعد سے پلٹ ڈاؤن مین کا وہ ڈھانچا برطانوی عجائب گھر سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا جہاں ۴۰برسوں سے وہ مسلسل دنیا کی’ معلومات‘ میں اضافہ کررہا تھا!۔
ڈارون اور اس کے قبیل کے دیگر مفکرین کے یہ نظریات علمی وسائنسی فضا میں تقریباً ایک صدی محض اس لیے چھائے رہے کہ اس دور تک جدید سفری آسانیاں ، حساس تحقیقاتی آلات ، خورد بین ودُوربین، تشخیصی سہولتیں ، سائنسی علوم، اور غور و فکر کی صلاحیتیں وغیرہ، ہمہ معیاری اور بااعتماد حد تک سامنے نہیں آسکی تھیں۔لیکن جوں جوں سائنس آگے بڑھتی رہی ،اور علم اپنا دامن وسیع تر کرتا رہا، ڈارون کے نظریات بھی اسی لحاظ سے شکوک و شبہات کی زد میں آتے چلے گئے۔

حقائق اور تہہ تک پہنچ جانے والے علم کی آج کی یہ دنیا، نہ تو چارلس ڈارون کے نظریۂ ارتقا کو درست مانتی ہے اور نہ چارلس ڈاسن کے خود ساختہ ’پِلٹ ڈاؤن مین‘ کو کوئی اہمیت دینے کو تیار ہے۔ کل کا دھوم مچادینے والا ’پِلٹ ڈاؤن مین‘ آج کا محض افسانہ بن کر رہ گیا ہے!

_______________
کتابیات
۱۔ ہارون یحییٰ Tell Me About the Creation - New Delhi 
۲۔ انسائی کلوپیڈیا، جلدنمبر۱۲،کولییرز،امریکا ۳۔ انٹر نیٹ ، وکی پیڈیا سرچ 
۴۔ Jewish History and Culture, Alpha Publishers, U.S.A.
۵۔عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، بھارت