مسلم سائنسدانوں کی روشن ایجادات

کافی کے بیج، منبر، باغات، یونیورسٹی اور آبزرویٹری میں کیا چیز مشترک ہیں؟ لیونارڈو ڈی ونچ اور فیبونیسی کو پرواز اور نمبرز کا خیال کہاں سے آیا؟ یہ سب اس پُرکشش مسلم تہذیب کی کرامات ہیں جس وقت یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا تو مسلمان سائنسی اور ثقافتی دریافت کے روشن باب تحریر کر رہے تھے۔
اس سے قطع نظر کہ اب یورپ مسلمانوں سے سائنسی لحاظ سے صدیوں آگے نکل چکا ہے تاہم مسلم تاریخ کے اس روشن دور کی چند ایسی اہم ایجادات کا احوال جاننا یقیناً دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا جس نے آج کی جدید ترین دنیا کی بنیاد رکھی اور آج ٹیکنالوجی کے لحاظ سے انسانی تاریخ کے سب سے اہم ترین دور سے مستفید ہو رہے ہیں۔

کافی

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کافی جو آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک ہے، درحقیقت مسلمانوں کی ایجاد ہے اور یہ کسی سائنسدان کا نہیں بلکہ عام چرواہے عرب کا کارنامہ ہے، جو اپنے جانوروں کو چرا رہا تھا کہ اسے ایک نئے طرز کا بیری ملا اور انہیں ابالنے کے بعد دنیا میں پہلی بار کافی تیار ہوئی۔

اس مشروب کی تیاری کا یہ پہلا ریکارڈ ہے جس کے بعد بیج ایتھوپیا سے یمن پہنچا جہاں صوفی بزرگ اہم مواقعوں پر اسے پی کر ساری رات جاگتے تھے، پندرہویں صدی کے اختتام تک یہ مشروب مکہ اور ترکی سے ہوتا ہوا 1645 میں یورپی شہر وینس اور پھر دیگر ممالک تک پہنچ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن میں پہلا کافی ہاﺅس بھی ایک ترک شخص نے ہی اوپن کیا۔

کیمرہ

قدیم یونانیوں کا خیال تھا کہ ہماری آنکھیں کسی لیزر کی طرح شعاعیں خارج کرتی ہیں جس کے باعث ہم دیکھ پاتے ہیں تاہم جس شخص نے سب سے پہلے یہ جانا کہ روشنی آنکھوں سے نکلتی نہیں بلکہ داخل ہوتی ہے وہ دسویں صدی کے مسلم سائنسدان ابن الہیثم تھے اور اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پہلا پن ہول کیمرہ ایجاد کیا اور پہلی لیب کو تشکیل دیا۔


شطرنج

شطرنج کی ایک قسم قدیم ہندوستان میں کھیلی جاتی تھی مگر اس گیم کو ترقی آج کے دور میں ایران میں ملی جہاں سے یہ یورپ اور ایشیاء کے دیگر ممالک تک پھیل گیا، لفظ رخ بھی فارسی زبان سے ہی شطرنج کا حصہ بنا۔

پیراشوٹ

رائٹ برادرز سے لگ بھگ ایک سال پہلے مسلم موسیقار، انجینئر، شاعر عباس ابن فرانز نے ایک اڑن مشین کی تیاری کی متعدد کوششیں کیں، 852 عیسوی میں اس نے قرطبہ کی عظیم مسجد کے مینار سے ایک ڈھیلے لباد اور لکڑی کے پروں کے ساتھ چھلانگ لگائی اسے توقع تھی کہ وہ ایک پرندے کی طرح ہوا میں تیر سکے گا مگر وہ ناکام رہا، مگر اس لبادے نے نیچے گرنے کی رفتار کم کردی اور اس طرح دنیا کا پہلا پیراشوٹ وجود میں آگیا۔
بعد میں ستر سال کی عمر میں اس نے ریشم اور عقاب کے پروں سے ایک مشین تیار کرکے پھر پہاڑ سے چھلانگ لگلائی اور دس منٹ تک کامیابی سے ہوا میں تیرتا رہا تاہم اترتے ہی کریش ہوگیا اور اس نے نتیجہ نکالا جو کہ درست تھا کہ اپنی ڈیوائس میں دم نہ لگانے کی وجہ سے لینڈنگ خراب ہوئی۔

صابن

نہانا دھونا مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے انہوں نے آج کے دور میں استعمال ہونے والا صابن اپنے دور عروج میں ایجاد کیا، قدیم مصر اور روم میں صابن جیسی کوئی چیز استعمال ہوتی تھی مگر یہ عرب تھے جنھوں نے سبزیوں کے تیل اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کے امتزاج میں مختلف خوشبویات کا استعمال کیا، یہاں تک کہ شیمپو بھی انگلینڈ میں ایک مسلم نے 1759 میں متعارف کرایا۔


مشینیں

شافٹ ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کو جدید عہد کی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور انسانی تاریخ کی اہم ترین مکینیکل ایجادات میں سے ایک مسلم انجینئر الجرازی نے کی جس کے ذریعے پانی کو کنویں کی تہہ سے اوپر لا کر آبپاشی کا استعمال کیا جاسکتا ہے، 1206 میں ان کی کتاب سے ثابت ہوتا ہے والوز اور پسٹن کو بھی انہوں نے ایجاد کیا جبکہ انہیں روبوٹکس کا بانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔

لباس

کپڑوں کی دو تہوں کے درمیان کسی مٹیریل کی تہہ بچھانے یا زرہ بکتر کو نئی شکل دینے کے بارے میں واضح نہیں کہ یہ مسلم دنیا نے کب ایجاد کی یا اسے ہندوستان یا چین درآمد کیا مگر یہ واضح ہے کہ یہ مغرب میں صلیبی جنگوں کے بعد اس میں حصہ لینے والے جنگجوﺅں کے ذریعے مغرب میں پہنچا۔

گنبد، منبر اور دیگر تعمیرات

عیسائی دنیا کے گرجا گھروں میں گنبدوں کی تعمیر کا تصور بھی اسلامی تعمیرات سے لیا گیا، یہ گول تعمیر اس طرز تعمیر سے کئی گنا بہتر تھا جو رومن استعمال کرتے تھے کیونکہ اس کے ذریعے عمارت کو زیادہ بڑا، اونچا اور کمپلیکس کی شکل دینا آسان ہوگیا۔ اس کے علاوہ مسلم دنیا سے ہی منبر، روز ونڈو اوردیگر تیکنیک یورپ نے ادھا لیے، یہاں تک کہ یورپی قلعے بھی اسلامی دنیا کی نقل ہیں۔


سرجیکل آلات

جدید عہد کے متعدد سرجیکل آلات کی بنیاد دسیویں صدی کے مسلم سرجن الظواہری نے رکھی، ان کے نشتر، قینیاں اور دیگر دو سو آلات کی اہمیت کو آج کے عہد کے سرجن بھی مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے زخموں کو ٹانکے لگانے والا ایسا دھاگا بھی تیار کیا جو قدرتی طور پر جسم سے الگ ہو جاتا تھا جبکہ انہوں نے کیپسول بھی ایجاد کیا، اسی طرح تیرہویں صدی میں ایک اور مسلم طبی ماہر ابن نفیس نے دوران خون کی وضاحت کی جبکہ مسلم ڈاکٹروں نے افیون اور الکحل کے امتزاج سے ایسی سوئیاں تیار کیں جس سے کسی کو بھی بے ہوش کیا جاسکتا تھا اور یہ تیکنیک اب بھی استعمال ہو رہی ہے۔

ہوائی چکی یا ونڈ مل

ونڈ مل کو ایک ایرانی خلیفہ نے ساتویں صدی میں ایجاد کیا جسے مکئی کی فصل کے لیے پانی کے حصول کے دوران استعمال کیا جاسکتا تھا اور یورپ میں یہ چیز پانچ سو سال بعد دیکھنے میں آئی۔


فاﺅنٹین پین

پہلا فاﺅنٹین پین 953 میں ایک مصری سلطان نے ایجاد کیا کیونکہ وہ ایسا قلم چاہتا تھا جس کے داغ اس کے ہاتھوں یا کپڑوں پر نہ لگ سکیں، اس قلم میں موجود قلموں کی طرح سیاہی اندر ذخیرہ ہوتی تھی اور نب کے ذریعے اس سے لکھا جاتا تھا۔

نمبر اور الجبرا

دنیا بھر میں نمبروں کا سسٹم ممکنہ طور پر ہندوستان میں سامنے آیا مگر نمبروں کا یہ انداز عربی کا ہے اور یہ پہلی بار کاغذ پر ایک مسلم ریاضی دان الخوارزمی اور ال کیندی نے 825 میں استعمال کیا، الجبرا کا نام بھی الخوارزمی کی کتاب الجبر کے نام پر رکھا گیا جو تاحال استعمال ہو رہا ہے۔ مسلم ریاضی دانوں کا کام تین سو سال بعد اطالوی ماہر فیبونسی کے ذریعے یورپ پہنچا، اسی طرح تکون اور الگورتھم کی تھیوری بھی مسلم دنیا سے ہی سامنے آئی۔

تھری کورس کھانا

علی ابن نفی جنھیں زریاب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے نویں صدی میں تھری کورس کھانے یعنی پہلے سوپ، اس کے بعد مرکزی پکوان مچھلی یا گوشت اور پھر میٹھے کا تصور پیش کیا، اس کے علاوہ اہوں نے شیشے یا کرسٹل گلاس بھی ایجاد کیے۔


قالین

قالین بھی اسلامی ماہرین کی جدید ترین سلائی کی تیکنیک کی ایجاد تھی جس کے ذریعے ان پر انتہائی دیدہ زیب نقش و نگار ابھارے جاتے تھے اور وہاں سے ہی یہ یورپی ممالک میں پہنچے۔


چیک

جدید عہد کے چیک کی بنیاد عربی سَک سے نکلی، یعنی ایسا تحریری وعدہ جس میں اشیاء کی ڈیلیوری پر رقم کا وعدہ کیا جاتا تھا، نویں صدی میں ایک مسلم کاروباری چین میں چیک کیش کراسکتا تھا جس کے لیے بینک بغداد میں کام کرتا تھا۔

زمین گول ہے کا تصور

زمین کے گول ہونے کا تصور زمانہ قبلِ مسیح میں قدیم یونانی سائنسدانوں میں بھی عام تھا، لیکن نویں صدی میں متعدد مسلم اسکالرز نے باقاعدہ طور پر اس نظریے کو مسلم دنیا میں گیلیلو سے پانچ سو سال پہلے عام کر دیا تھا۔ زمین کے گھیر کے بارے میں مسلم ماہرین کا حساب اتنا درست تھا کہ نویں صدی میں ہی انہیں نے بتا دیا تھا کہ وہ چالیس ہزار سے زائد کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جو کہ موجودہ حسابات سے صرف دوسو کلومیٹر ہی کم تھا۔


بارود

اگرچہ چینیوں نے سلفر گن پاﺅڈر ایجاد کیا تھا اور اسے آتشبازی کے لیے استعمال کرتے تھے مگر یہ عرب تھے جنھوں نے اس میں پوٹاشیم نائٹریٹ شامل کرکے اسے فوری مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ مسلمانوں کی اس ایجاد نے صلیبی جنگوں میں عیسائی افواج کو خوفزدہ کردیا تھا جبکہ پندرہویں صدی میں مسلمانوں نے راکٹ اور تارپیڈو ایجاد کیا جس سے وہ دشمنوں کے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے تھے۔

باغات اور ہربل ادویات

قدیم یورپ میں باورچی خانے اور ہربل باغات تھے مگر یہ عرب تھے جنھوں نے اس خیال کو ترقی دی کہ باغات کو خوبصورت اور ادویات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، یورپ میں پہلا پھلوں سے سجا باغ بھی گیارہویں صدی میں مسلم اسپین میں کھولا گیا تھا۔ مسلم باغات میں ٹیولپ اور کارنیشن جیسے پھولوں سمیت دیگر کو انتہائی خوبصورتی سے استعمال کیا جاتا تھا۔



Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours