اہم فلکیاتی پیش رفت،  بلیک ہول سے خارج ہونے والی

روشنی کی لہروں کو دیکھ لیا گیا

  
ہماری اپنی دودھیا کہکشاں میں ایک دوسرے نظام شمسی کی دریافت ہوئی ہے، جسے ٹریپسٹ اوّل (TRAPPIST-1) کا نام دیا گیا ہے۔ فلکیات کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب زمین سے مشابہہ سات سیّارے دریافت کیے گئے ہیں جو کہ سورج سے اتنے فاصلے پر ہیں ان میں زندگی پائی جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ سیارے ہم سے40 نوری سالوں کی دوری پر ہیں۔
عمومی نظریہ اضافیت کے 100 برس(1915-2015) مکمل ہوتے ہی ڈرامائی طور پر کائنات اور بلیک ہولز کے بارے میں تحقیقات میں تیزی سے پیش قدمی جاری ہے اور خاص طور پر بلیک ہولوں کے بارے میں نت نئی معلومات سامنے آرہی ہیں اور سیاہ گڑھے یا بلیک ہولز جو کہ اب تک انسانوں کے لیے محض ایک معما بنے رہے ہیں بڑے امکانات روشن ہیں کہ ہم جلد ان کی اصل حقیقت سے آگاہی حاصل کرلیں گے۔


ابابیل زمین پر اترے بغیر مسلسل 10 ماہ تک پرواز کرسکتی ہے


پرندوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ابابیل (کامن سوئفٹ) 10 ماہ تک مسلسل پرواز کرسکتی ہے جبکہ اپنے اس پورے سفر میں وہ ایک لمحے کےلئے بھی زمین پر نہیں اُترتی اور اُڑتے دوران ہی اپنی غذا بھی حاصل کرتی ہے۔  

واضح رہے کہ چھوٹی جسامت ہونے کے باوجود ابابیل (سوئفٹ) کا شمار دنیا کے بلند پرواز اور تیز رفتار پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مسلسل طویل ترین مدت تک پرواز کا ریکارڈ 6 ماہ تھا جو ابابیل ہی کی ایک قسم ’’الپائن سوئفٹ‘‘ کے پاس تھا۔ عام ابابیل نے، جسے سائنسی زبان میں ’’ایپس ایپس‘‘ (Apus Apus) کہا جاتا ہے، یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ یورپ سے افریقہ تک موسمی نقل مکانی (سیزنل مائیگریشن) کرتے ہوئے یہ ابابیل مسلسل 10 ماہ تک بغیر رُکے اور بغیر زمین پر اُترے پرواز کرتی ہے۔


 کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد سابقہ اندازوں سے  بھی 10 گنا زیادہ

 ناٹنگھم : ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ قابلِ مشاہدہ کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد ہمارے سابقہ اندازوں سے کم از کم 10 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ پہلے یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ کائنات میں کہکشاؤں کی مجموعی تعداد 100 ارب (ایک کھرب) سے لے کر 200 ارب (دو کھرب) تک ہوسکتی ہے لیکن تازہ تحقیق کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی کم از کم 10 گنا زیادہ یعنی 2000 ارب (2 ٹریلین) یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

خلائی مخلوق کی تلاش کیلیے چین نے  دنیا کی سب بڑی ریڈیائی دوربین تیار کر لی


 بیجنگ: چین کی جانب سے بنائی گئی دنیا کی سب بڑی ریڈیائی دوربین خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے اگلے ہفتے اپنی آنکھیں کھولے گی۔ اسے ’’فائیو ہنڈریڈ میٹر اپرچر سفیئریکل ٹیلی اسکوپ یا فاسٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو کائنات کے دور دراز گوشوں سے خلائی مخلوق اور دیگر اجسام کی سُن گن لے سکے گی۔ اس کے ذریعے بہت دور موجود سیارے اور ستاروں کو دیکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

علم نجوم کو سخت دھچکا،ستاروں پر یقین رکھنے والوں کے ستارے بدل گئے، ناسا کا اعلان


 کراچی: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی تیرہویں آسمانی برج کا اعلان نہیں کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ علمِ نجوم میں قسمت کا حال بتانے والے آسمانی بروج کی تاریخوں میں ایک دو دن کا نہیں بلکہ تقریباً ایک مہینے کا فرق پڑچکا ہے۔
ناسا کے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے کسی تیرہویں برج کے بارے میں کوئی اعلان جاری نہیں کیا بلکہ اس کی ’’اسپیس پلیس‘‘ نامی ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع شدہ مضمون میں یہ بتایا گیا ہے کہ علمِ نجوم کا فلکیات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی سلسلے میں نجومیوں کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ لکھا گیا ہے کہ اگر نجومی واقعی سائنس سے کوئی تعلق رکھتے تو وہ دائرۃ البروج کو 12 کے بجائے 13 حصوں میں تقسیم کرتے تاکہ زیادہ درست حساب لگایا جاسکتا۔ 




ملکی وے کہکشاں ہماری سوچ سے بھی بڑی ہے، ماہرین فلکیات 

پیرس: یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) نے ہماری کہکشاں یعنی ملکی وے کا سب سے تفصیلی نقشہ جاری کردیا ہے جس میں اس کے ایک ارب 10 کروڑ ستاروں کے مقامات کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی گئی ہے۔ ملکی وے کہکشاں کا یہ نقشہ ’’گائیا‘‘ نامی خلائی مشن نے اپنے ابتدائی 14 مہینوں میں مسلسل فلکیاتی مشاہدے کے بعد تیار کیا ہے جس میں ایک ارب 14 کروڑ اور 20 لاکھ ستاروں کے مقامات کا انتہائی درست طور پر تعین کیا گیا ہے۔
اگر اس کا موازنہ ملکی وے کہکشاں کے پچھلے سب سے تفصیلی نقشے سے کیا جائے جو ’’ہپارکوس‘‘ نامی خلائی مشن نے تیار کیا تھا تو معلوم ہوگا کہ یہ اُس سے 20 گنا بڑا ہے۔ ایک ارب سے زائد مذکورہ ستاروں میں سے تقریباً 40 کروڑ ایسے ہیں جو پہلے نامعلوم تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملکی وے کہکشاں ہماری سابقہ معلومات سے بھی کہیں زیادہ بڑی ہے۔