ملکی وے کہکشاں ہماری سوچ سے بھی بڑی ہے، ماہرین فلکیات 

پیرس: یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) نے ہماری کہکشاں یعنی ملکی وے کا سب سے تفصیلی نقشہ جاری کردیا ہے جس میں اس کے ایک ارب 10 کروڑ ستاروں کے مقامات کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی گئی ہے۔ ملکی وے کہکشاں کا یہ نقشہ ’’گائیا‘‘ نامی خلائی مشن نے اپنے ابتدائی 14 مہینوں میں مسلسل فلکیاتی مشاہدے کے بعد تیار کیا ہے جس میں ایک ارب 14 کروڑ اور 20 لاکھ ستاروں کے مقامات کا انتہائی درست طور پر تعین کیا گیا ہے۔
اگر اس کا موازنہ ملکی وے کہکشاں کے پچھلے سب سے تفصیلی نقشے سے کیا جائے جو ’’ہپارکوس‘‘ نامی خلائی مشن نے تیار کیا تھا تو معلوم ہوگا کہ یہ اُس سے 20 گنا بڑا ہے۔ ایک ارب سے زائد مذکورہ ستاروں میں سے تقریباً 40 کروڑ ایسے ہیں جو پہلے نامعلوم تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملکی وے کہکشاں ہماری سابقہ معلومات سے بھی کہیں زیادہ بڑی ہے۔

گائیا مشن میں دنیا بھر سے 450 ماہرینِ فلکیات اور سافٹ ویئر انجینئرز شریک ہیں۔ اس مشن کی خلائی دوربین ایک ارب پکسل والے کیمرے سے لیس ہے جو اتنا طاقتور ہے کہ ایک ہزار کلومیٹر کی دوری سے بھی انسانی بال جتنی باریک چیز کو دیکھ سکتا ہے۔
اس سے پہلے ہپارکوس خلائی مشن سب سے طاقتور سمجھا جاتا تھا جس نے زمین سے 1600 نوری سال دوری تک واقع 80 جھرمٹوں میں ستاروں کے فاصلے معلوم کیے تھے۔ لیکن گائیا اس سے بھی بہت آگے ہے۔ یہ اس قابل ہے کہ 4800 نوری سال دوری تک واقع 400 جھرمٹوں میں ستاروں کے فاصلوں کی پیمائش کرسکے
اندازہ ہے کہ ملکی وے میں کم از کم 100 ارب اور زیادہ سے زیادہ 400 ارب تک ستارے ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک مرغولہ نما (spiral) کہکشاں ہے جس کی چوڑائی 80 ہزار نوری سال کے لگ بھگ ہے۔ تاریک رات میں کہ جب بادل بھی نہ ہوں، اس وقت ملکی وے کہکشاں آسمان میں ٹھہرے ہوئے ایک دھندلے بادل کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
لیکن گائیا مشن کی دریافتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید ملکی وے کہکشاں میں ستاروں کی تعداد اور اس کی وسعت ہمارے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس بات کا فیصلہ مستقبل کے زیادہ تفصیلی اور حساس خلائی مشن کرسکیں گے۔
گائیا مشن مجموعی طور پر 5 سال تک جاری رہے گا جب کہ یورپی خلائی ایجنسی کا اصل منصوبہ اس سے تقریباً ایک ارب ستاروں کی درست پوزیشنیں معلوم کرنا تھا۔ لیکن اس نے اپنے ابتدائی 14 مہینوں ہی میں نہ صرف یہ سنگِ میل عبور کرلیا بلکہ وہ کامیابیاں بھی حاصل کرلیں جو پہلے کسی خلائی مشن کے حصے میں نہیں آئی تھیں۔ توقع ہے کہ آنے والے برسوں کے دوران یہ ملکی وے کہکشاں میں لگ بھگ 2 ارب 50 کروڑ ستاروں کے مقامات اور فاصلوں کا ٹھیک ٹھیک تعین کرسکے گا۔ اتنی زبردست کامیابیوں اور توقعات کے باوجود یہ خلائی مشن بھی اپنے اختتام تک ملکی وے کہکشاں کے صرف 2 فیصد ستاروں ہی کا مطالعہ کرپائے گا

واضح رہے کہ ہمارا سورج بھی ملکی وے کہکشاں ہی کا ایک ستارہ ہے جو اس کے مرکز سے 25 ہزار نوری سال کے فاصلے پر (اپنے پورے نظامِ شمسی سمیت) واقع ہے اور ملکی وے کہکشاں کے گرد اپنا ایک پورا چکر دو کروڑ سال میں پورا کرتا ہے۔


Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours