بہتے خون کو روکنے والا جادوئی آلہ

جب میدانِ جنگ میں کسی فوجی کو گولی لگے، تو زخم سے بہتے لہو کو روکنا سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک طرف مضروب شدید تکلیف سے دوچار ہوتا ہے،توہنگامی(ایمرجنسی)طبی امدادبھی اسکےدردمیں اضافہ کرڈالتی ہے۔ زخم سے خون روکنے کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اس میں سوتی پٹی ٹھونس دیتا ہے۔ مدعا یہ ہوتا ہے کہ نس سے بہتا خون بند ہوجائے۔ بعض اوقات یہ پٹی جسم کے اندر 5اِنچ گہرائی میں ٹھونسی جاتی ہے۔
تکلیف دہ امر یہ ہے کہ بعض اوقات یہ طریق کار کام نہیں کرتا۔ اگر تین منٹ کے اندر اندر بہتا خون نہ رکے، تو ڈاکٹر پٹی نکال کے ازسر نو یہی عمل دہراتا ہے۔ یہ سارا عمل اتنا درد انگیز ہے کہ عموماً فوجی تکلیف برداشت نہیں کر پاتا اور بے ہوش ہوجاتا ہے۔
خطرناک بات یہ ہے کہ ہنگامی امداد ملنے کے باوجود کئی فوجی خون نہ رکنے کی وجہ سے چل بستے ہیں۔ یاد رہے، زیادہ خون بہنے سے عموماً موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس خامی کو عراق اور افغانستان میں تعینات رہنے والے امریکی ڈاکٹر، جان سٹین بوگ(John Steinbaugh)نے شدت سے محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے، جب اپریل 2012ء میں ڈاکٹر جان ریٹائر ہوا، تو اس نے ایک کمپنی ”ریومیڈکس“ (Revmedx) میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ کمپنی ان سائنس دانوں، ڈاکٹروں اور انجینئروں نے قائم کی تھی جو زخم سے بہتا لہو روکنے کا مؤثر طریقہ دریافت کرنا چاہتے تھے۔
ریومیڈکس“ کے ماہرین نے سب سے پہلے ٹائر مرمت کرنے والا فوم آزمایا۔ مگر جب جانوروں کے زخم میں فوم ڈالا گیا، تو وہ کارگر ثابت نہ ہوا۔ دراصل زخم سے نکلنے والے خون کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا کہ وہ کہ وہ فوم کو بہا کے لے جاتا۔

چناچہ ماہرین نے اگلے میٹریل، اسفنج کو آزمایا۔ انھوں نے برتن دھونے والا عام اسفنج خریدا اور اُسے ایک سینٹی میٹر کے ٹکڑوں میں کتر لیا۔ پھر یہ اسفنجی ٹکڑے دورانِ تجربات جانوروں کے زخموں میں ڈالے گئے۔ ہر تجربے میں کامیابی ملی اور ٹکڑوں نے بہتا خون روک لیا۔
اس کامیابی سے ماہرین کے حوصلے بلند ہوگئے۔ آخر بہتا لہو روکنے والا مادہ انھیں مل ہی گیا۔ مگر عام اسفنج انسانی جسم میں ڈالنا ممکن نہیں تھا کیونکہ وہ جراثیم سے لت پت ہوتا ہے۔ سو ماہرین ایسی شے ڈھونڈنے لگے جو پاک صاف اور جراثیم کش ہو اور انسانی بدن جسے آسانی سے قبول کرلے۔
آخر لکڑی کے گودے(Pulp)سے تیار کردہ اسفنج استعمال کرنے پر اتفاق ہوا۔ نیز اس پر چیٹوسان (Chitosan)مادے کی تہ جمائی گئی۔ یہ خون روکنے اور جراثیم مارنے والا مادہ جھینگے کے خول سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مزید برآں تیار کردہ اسفنجی ٹکڑوں پر ایسے خاص نشان بھی ثبت ہوتے ہیں کہ وہ ایکس رے مشین میں شناخت ہو جائیں۔ مدعا یہ ہے کہ کوئی ٹکڑا انسانی بدن میں نہ رہے۔

تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ چوبی اسفنج زخم میں ڈالا جائے تو 15سیکنڈ میں بہتا لہو روک دیتا ہے۔ چونکہ اسفنج نم سطح سے چِپک جاتا ہے، اس لیے خون کا بڑھتا دباؤ بھی اُسے زخم سے نکال نہیں پاتا۔ سو ڈاکٹر کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ بہ سہولت زخم کی مرہم پٹی کر سکے۔
آخر میں یہ مسئلہ سامنے آیا کہ اسفنجی ٹکڑوں کو میدان ِ جنگ میں مضروب فوجی کے زخم کے اندر بہترین انداز میں کیونکر ڈالا جائے۔ تب سوچ بچار کے بعد ایک خصوصی ٹیکا (سرنج) ایجاد کیا گیا تاکہ چوبی اسفنج اس میں بھر کے زخم میں ڈال دیا جائے۔ یوں ماہرین کی شبانہ روز محنت رنگ لائی اور وہ انسانی جان بچانے والی شے بنانے میں کامیاب رہے۔

امریکی ماہرین نے اپنی اس منفرد ایجاد کو ”ایکس سٹیٹ(X State)کا نام دیا۔ گو یہ زخمی فوجیوں کو بچانے کی خاطر بنائی گئی، مگر اس سے عام حادثات میں زخمی ہونے والے انسانوں کی جانیں بچانا بھی ممکن ہے۔
اسی امر کو ذہن میں رکھ کر حال ہی میں بل گیٹس کی مشہور تنظیم، بل اینڈ میلنڈہ گیٹس نے ریومیڈکس کو دس لاکھ ڈالر کی امداد دی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ کمپنی ایکس سٹیٹ کی ایسی قسم تیار کرے جو حادثوں میں زخمی ہونے والے مرد و زن کی بھی قیمتی جانیں بچا سکے۔ واضح رہے، ہر سال حادثات میں زخمی ہونے والے ہزاروں مرد و زن زیادہ خون بہنے کے باعث اسپتال پہنچنے سے قبل ہی چل بستے ہیں۔ جب بھی سڑک کے حادثے میں زخمی ہونے والے انسان کا بہتا خون روکنے والا ”ایکس سٹیٹ“ ٹیکا ایجاد ہوا، ہزاروں انسانوں کی جانیں بچانا ممکن ہو جائے گا۔


Share To:
Next
This is the most recent post.
Previous
قدیم تر اشاعت

Tariq Iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours